Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
217 - 269
کسی نے حضرت سَیِّدالطائفہ جُنید بَغْدادی علیہ رَحمۃ ُالھادی سے یہ حالت عرْض کی! استفسار فرمایا! نماز کا کیا حال ہے؟ عرْض کی!نماز کے وقت ہوشیار ہوجاتے ہیں اورپھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔فرمایا! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ان کا وَجْد سچا ہے۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں!نماز جب تک باقی ہے، کسی وقت میں معاف نہیں۔(ملفوظات اعلی حضرت ، حصہ دو م ، ص ۲۴۱)

ایک صاحب صالحین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبین سے تھے، بہت ضعیف ہوئے، مگرپنجگانہ نماز باجماعت ادا فرماتے۔ ایک شب! عشاء کی حاضری میں گر پڑے، چوٹ آئی۔ بعد نماز عرْض کی! الہٰی(عَزَّوَجَلَّ)اب میں بہت ضعیف ہوچکا ہوں، بادشاہ اپنے بوڑھے غلاموں کو خدمت سے آزاد کردیتے ہیں! مجھے بھی آزاد فرمادے۔ان کی دعا قبول ہوئی، مگر یوں کہ صبح اٹھے تو مجنون(یعنی دیوانے) ہوچکے تھے۔(معلوم ہوا جب تک عقل باقی ہے نماز معاف نہیں)۔ (ملفو ظات اعلی حضرت ، حصہ دوم ، ۲۴۲)
مجذوبِ بَریلی علیہ رَحمۃ اللہِ القوی
حقیقت یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ والا کبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکام کی مخالفت نہیں کرتا، ایک مجذوب دینا میاں (رَحمتہ اللہ علیہ) تھے۔ بریلی شریف کا بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا۔انہوں نے ایک دفعہ ٹرین کو اپنی کرامت سے روک دیا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک دن محلہ سوداگران (بریلی شریف )تشریف لے گئے۔ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ مسجد کے قریب پہنچے تو اعليٰحضرت قبلہ علیہ الرحمۃمکان سے باہرتشریف لارہے تھے ۔
Flag Counter