کسی نے حضرت سَیِّدالطائفہ جُنید بَغْدادی علیہ رَحمۃ ُالھادی سے یہ حالت عرْض کی! استفسار فرمایا! نماز کا کیا حال ہے؟ عرْض کی!نماز کے وقت ہوشیار ہوجاتے ہیں اورپھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔فرمایا! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ان کا وَجْد سچا ہے۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں!نماز جب تک باقی ہے، کسی وقت میں معاف نہیں۔(ملفوظات اعلی حضرت ، حصہ دو م ، ص ۲۴۱)
ایک صاحب صالحین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبین سے تھے، بہت ضعیف ہوئے، مگرپنجگانہ نماز باجماعت ادا فرماتے۔ ایک شب! عشاء کی حاضری میں گر پڑے، چوٹ آئی۔ بعد نماز عرْض کی! الہٰی(عَزَّوَجَلَّ)اب میں بہت ضعیف ہوچکا ہوں، بادشاہ اپنے بوڑھے غلاموں کو خدمت سے آزاد کردیتے ہیں! مجھے بھی آزاد فرمادے۔ان کی دعا قبول ہوئی، مگر یوں کہ صبح اٹھے تو مجنون(یعنی دیوانے) ہوچکے تھے۔(معلوم ہوا جب تک عقل باقی ہے نماز معاف نہیں)۔ (ملفو ظات اعلی حضرت ، حصہ دوم ، ۲۴۲)