کے قابل ہوں۔جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزری۔ تو آپ علیہ الرحمۃنے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کچھ فرمایا۔ آپ کا فرمانا تھا! کہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امنڈآئیں اور جل تھل بھر دئیے۔
ایک دن نماز جمعہ کے وقت آپ (یعنی سَیِّدی موسٰی سہاگ علیہ الرحمۃ) بازار میں جارہے تھے، ادھر سے قاضی شہر جامع مسجد کو جاتے تھے، انہیں دیکھ کر، امر بالمعروف کیا! کہ یہ وضع (زنانہ حلیہ)مَردوں کو حرام ہے۔ مردانہ لباس پہنيے اورنماز کو چلئے۔
آپ علیہ الرَحمتہ نے اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا۔ چوڑیاں، زیور اور زنانہ لباس اتارکر(مردانہ لباس پہنا)اور مسجد کو چل دئیے۔ خطبہ سنا۔ جب جماعت قائم ہوئی۔ اور امام نے تکبیرتحریمہ کہی۔ اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی، سر سے پاؤں تک و ہی سرخ لباس اور چوڑیاں آگئیں۔
اعلٰحضرت علیہ الرحمۃ مزید فرماتے ہیں!اندھی تقلید کے طور پر، ان کے مزار کے بعض مُجاوَروں کو دیکھا، کہ اب تک بالیاں، کڑے، جوشَن(بازو کاایک زیور) پہنتے ہیں۔ یہ گمراہی ہے۔ (الملفوظ شریف حصہ دوم،ص۲۰۸)