| آدابِ مرشدِ کامل |
نہیں سمجھ لینا چاہے بلکہ ہر معاملے میں شَرِیْعَت کو پیشِ نظر رکھنے میں ہی عافیت ہے اور یہ بھی یاد رہے! کہ مَجذوب پر جَذب کی کیفیت، از خود! طاری ہوتی ہے۔ جان بوجھ کر طاری نہیں کی جاتی۔
سچے مجذوب
حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجذوب کی پہچان دُرُود شریف سے(بھی) ہوتی ہے۔اس کے سامنے دُرُود پاک پڑھا جائے تو مُؤدَّب (یعنی با ادب)ہوجاتا ہے ۔
اعلٰيحضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ سچے مجذوب کو اس طرح پہچانا جاسکتا ہے، کہ وہ کبھی بھی شَرِیْعَت مطہرہ کا مقابلہ نہیں کریگا۔(جبکہ بظاہر وہ شرعِی اَحکامات پر عمل کرتا نظر نہ آئے) یعنی باوُجود ہوش میں نہ ہونے کے، اس پر اگر شرعِی اَحکام پیش کیے جائیں۔ تو نہ وہ انہیں رد کریگا، اور نہ انہیں چیلنج کریگا۔حضرتِ سَیِّدی موسٰی سُہاگ رحمۃ اللہ علیہ
اعلٰحضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں! حضرت سَیِّدی موسٰی سہاگ رحمۃاللہ علیہ مشہور مجذوبوں میں سے تھے، احمد آبادشریف(ہند) میں مزار شریف ہے۔ میں ان کی زیارت سے مشرف ہواہوں۔ زنانہ وضع(عورتوں والاحلیہ) رکھتے تھے ۔ ایک بار قحطِ شدید پڑا۔ بادشاہ، قاضی واکابر! جمع ہوکر حضرت سَیِّدی موسٰی سہاگ رحمۃاللہ علیہ کے پاس دعا کے لیے گئے۔ آپ علیہ الرحمۃ انکار فرماتے رہے! کہ میں کیا دعا