میں اُلٹے قدموں گھر پہنچااور کم و بیش ڈیڑ ھ لاکھ نقدرقم اور گھر کے تمام سونے کے زیورات تھیلی میں ڈالے اور بھاگم بھاگ اس کے پاس جاپہنچا تو وہ خاموشی سے سرجھکائے بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے تھیلی ہاتھ میں لے لی اورمجھے کہا ''آنکھیں بند کرلے، رقم زیادہ ہے لہذا!پڑھائی بھی زیادہ کرناہوگی۔ ''تقریباً5منٹ میں آنکھیں بند کئے بیٹھا رہا۔پھراس نے کہا: آنکھیں کھول ،میں نے زیورات اور رقم پر دم کردیا ہے،جا سیدھا گھر جا، مڑ کر دیکھنا نہ راستے میں کسی سے بات کرنا، گھر جاکر تھیلا کھولنا تو دل اچھل کر حلق میں آجائیگا۔ میں نے اسکے ہاتھ چومے اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہواگھر پہنچا۔ گھر پہنچ کر میں نے دروازے اورکھڑکیاں وغیرہ بند کیں اور دھڑکتے دل کے ساتھ جیسے ہی رقم اور گھر کے تمام زیورات نکالنے کیلئے تھیلا کھولاتو واقعی اس شخص کے کہنے کے مطابق نہ صرف میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا بلکہ سر بھی چکراگیاکیونکہ تھیلی میں سے ڈیڑھ لاکھ رقم اور زیورات غائب تھے اور اُن کی جگہاخبار کی ردی بھری ہوئی تھی۔ میں بے ساختہ چیخنے لگا :''اَرے میں لٹ گیا، وہ مجھے دھوکہ دے گیا۔'' میری چیخ وپکار سن کرگھر کے تمام افراد جمع ہوگئے۔میں نے انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا ۔ ہم نے اس کی تلاش میں نہ صرف اسٹیشن بلکہ شہر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر اس چالباز کا پتا نہ چل سکا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان شُعْبَدَہ بازوں کے واقعات سے پتا چلا کہ محض کسی کے ظاہری حلیے یا شعبدے بازی سے متاثر ہوکر اسے اللہ کا فقیر یامجذوب