اس کے ہاتھ چوم لئے اور کہنے لگا کہ آپ اللہ والے ہیں، مجھ پرکرم فرمادیں۔ یہ سن کر اس نے کچھ دیر کیلئے سر جھکا لیااور پھر بولا، لا رقم دے تو میں''دُگنی'' کردوں۔ میں نے فوراً 100کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے وہ نوٹ ہاتھ میں لیا اورکچھ پڑھنے کے بعد اس پر دم کرکے میری ہتھیلی پر رکھا اور مٹھی بند کردی ۔پھر کہا'' مٹھی کھول ۔۔۔۔۔۔!'' جیسے ہی میں نے مٹھی کھولی تو حیران رہ گیاکہ اس میں سو سو کے دو نوٹ موجودتھے۔
جب وہ شخص مڑکر جانے لگا تو میں اس کے پیچھے لگ گیاکہ بابا آپ مزید کرم کریں۔ اس پر اس نے ناراضگی والے انداز میں کہا کہ تُو لالچی ہوگیا ہے،دنیا مردار کی مانند ہے اِس کے پیچھے مت پڑ، نقصان اٹھائے گا۔ مگر میرا اصرار جاری رہا تو اس نے کہاکہ ''اچھا1000کا نوٹ ہے تو نکال ۔''میں نے فوراً جیب سے 1000کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے حسب ِ سابق دم کرکے نوٹ میری مٹھی میں دبا دیا۔میں نے مٹھی کھولی تو حیرت انگیز طور پر میرے ہاتھ میں ہزار ہزار کے دو نوٹ تھے۔ میں نے سوچا کہ آج موقع ملا ہے اس سے پورا فائدہ اٹھانا چاہے۔ لہذا!میں نے اس سے کہا آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں تاکہ میں آپ کی کچھ خدمت وغیرہ کروں ۔ تو وہ کہنے لگا کہ خدمت کیا کریگا،تُونے گھر کی رقم اور زیورات دُگنے کرانے ہیں۔یہ سن کر میرے دل کی کلی کِھل گئی۔ میں نے کہا: بابا! آپ کرم فرمائیں ۔ وہ کہنے لگا: اللہ والے دنیا سے سروکار نہیں رکھتے، گھروں پر نہیں جاتے،جا گھر جااور رقم و زیورات یہیں لے آ،میں دُگنا کردوں گا مگر کسی کو بتانا مت ورنہ مجھے نہ پاسکے گا۔