میرے دادا نے اس شخص کو کہاکہ بےچارہ غریب آدمی ہے، غلطی ہوگئی اس کو معاف کردیں، اس پر وہ اس شخص سے بولا کہ ان بُزُرگ کے کہنے پر معاف کررہا ہوں۔جا اب روزانہ دوبارہ500روپے کا نوٹ ملنا شروع ہوجائے گا، مگر کسی سے کہنا مت۔
وہ شخص خوشی خوشی وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اب گلی میں وہ شخص اور میرے دادا رہ گئے ۔ وہ شخص میرے دادا سے کہنے لگا، چاچا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔ میں آپ کی کیامدد کرسکتا ہوں ؟ دادا حُضورجو مُعاشی طور پر انتہائی پریشان تھے، رو پڑے اوراسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر اپنی پریشانی بتانے لگے۔
اس نے میرے دادا کو تسلی دیتے ہوئے کہا،چاچا آپ ہمت رکھیں سب صحیح ہوجائیگا ،آپ کے پاس کچھ رقم ہو تو لاؤ میں اس پر دم کردوں،اس سے ایسی بَرَکت ہوگی کہ تمہاری ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ دادابے چارے کیا دیتے ،ان کی جیب میں چند سکے تھے وہ ہی نکال کر دئيے کہ اس پر دم کردو۔ مگروہ بولا نوٹ نہیں ہیں تو چلو آپ کے ہاتھ میں جو گھڑی ہے وہی لاؤ میں اس پر دم کردیتا ہوں۔ دادا نے گھڑی ہاتھ سے اتار کر اس کو تھما دی ۔اس نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اس میں گھڑی ڈالی اور دم کر کے لفافہ دادا کے ہاتھ میں دے دیا اور کہااسے لے جا کر گھرمیں رکھ دواور صبح کھول کر دیکھنا آپ حیرت زدہ