Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
209 - 269
کچھ پیسے دے کر فارغ کرنا چاہا تو عجیب انداز میں مسکرایا اور کہنے لگا، میں پیسے لینے والا فقیر نہیں ، میں تو قلندرسائیں کا فقیر ہوں۔ قلندر سائیں کے پاس جارہا تھا،تجھے دیکھا تو ملنے چلا آیا، بول کیا مانگتا ہے؟بابا دینے آیا ہے۔ میں بولا بابادعا کرو، یہ سن کر اس نے سامنے رکھا چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا اٹھایا اورمنہ میں چباکر کچھ دیر بعد باہر نکالا تو وہ الائچی کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ میں بڑا متاثر ہوا سمجھا یہ کوئی اللہ والا ہے جو آج میرے نصیب جگانے آیا ہے ۔اس نے مجھے وہ الائچی کھانے کیلئے دی تو میں نے منہ میں رکھ لی اوربولا آپ بیٹھئے میں چائے منگواتا ہوں، مگر اس نے کہا فقیر چائے نہیں پیتا، بول تو کیا مانگتا ہے؟ مجھے توپریشان لگتا ہے۔ دشمنوں نے باندھ رکھاہے ، فقیر آج دینے آیا ہے ،مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے پھر دعا کیلئے عرض کی تو کہنے لگا فقیر قلندر سائیں پر جائے گا، نیاز کریگا، تیرے لئے دعا کریگا تو نیاز کے لئے پیسے دے گا۔

    پیسے مانگنے پر میں چونکا،مگر یہ سوچ کر خاموش رہاکہ ہوسکتا ؟یہ کوئی اللہ والا ہواور مجھے آزما رہا ہو۔لہٰذا میں نے 100روپے نکال کر دئيے توبولا، اتنے کم پیسے، قلندر کی نیاز، سائیں قلندر کا معاملہ ہے ، فقیر دعاکریگا، فقیر دینے آیاہے۔ بول کیا مانگتا ہے؟قلندر سائیں کی نیاز کیلئے اور پیسے دے تاکہ فقیر خوش ہوکر دعا کرے، فقیر کو خوش نہیں کریگا؟ میں نے 100روپے اور نکال کر دے دئيے ، مگر اس نے شاید میری جیب میں مزید رقم دیکھ لی تھی، لہٰذا اس کا اصرار جاری رہا مجھ پراب عجیب گھبراہٹ سی طاری ہوگئی تھی، لہٰذا میں نے سو100روپے مزید دئيے اور ہمت کرکے ذرا سخت لہجے میں بولا بس بابا میں اس سے