میرے ہاتھ میں دے دیا۔ میں نے اسے کھولا تو اس میں تعویذ کی طرح گہرے سرخ رنگ کی تحریر موجود تھی، جس میں ''مدینے جائے گا''وغیرہ لکھاہوا تھا ۔میں چونکہ اس طرح نظر بندی کے واقعات سُن چکا تھا، لہٰذا محتاط ہو کر کہنے لگا، بابا بس دعا کردیں۔ وہ بڑے پراَسرار انداز میں قریب آکر بولا بیٹا، بابا کو پیسے نہیں دیگا؟بابا دعا کریگا۔ میری جیب میں 2روپے تھے نکال کر دئيے تو بولا بس، اتنے کم، یہ کہتے کہتے اس نے نوٹ ہاتھ میں لیا اوراوپر کی جانب لے جاکرمیرا ہاتھ پکڑا اورمیری ہتھیلی پھیلا کراوپر اپنے ہاتھ سے نوٹ کو دبایا تو حیرت انگیز طور پراس نوٹ میں سے پانی ٹپکنا شروع ہوگیا، حتیٰ کہ میری ہتھیلی پانی سے بھر گئی۔میں نے گھبرا کر پانی نیچے گرادیا۔
وہ مجھ سے مایوس ہوکر مجھے گھورتا ہوا، ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں جا پہنچا، اس کے سامنے بھی شُعْبَدے بازی کرتا رہا ۔ مثلاً کنکر اٹھاکر ہیڈماسٹرکے منہ میں رکھا تو وہ شکَر بن گئی۔ اس نے کچھ پیسے ہیڈماسٹر سے اور کچھ دیگر اساتذہ کرام سے دھوکے کے ذریعے حاصل کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکول سے باہرنکلا اور غائب ہوگیا۔