Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
207 - 269
باندھ کر گانٹھ لگا دی۔ اورمسکرا کر بولا،بابا اگر یہ ساری رقم لے جائے ۔توتجھے بُرا تو نہیں لگے گا۔ سیٹھ بولا،بابا میں نے پیسے آپ کو دے دیئے ہیں اب آپ جو چاہے کریں۔وہ پھر بولا، نہیں،تو یہ سوچ رہا ہے کہ کہیں یہ رقم لے نہ جائے ۔ بابا دل دیکھتا ہے، بابا دل دیکھتا ہے، بابا دل دیکھتا ہے، کہتے کہتے وہ پر اَسرار انداز پوٹلی ہاتھ میں لئے اٹھا اوردوکان سے نیچے اتر گیا۔ہم سب سکتے کے عالم میں کچھ دیر تو ایک دوسرے کے چہرے دیکھتے رہے پھر ایک دم سیٹھ چیخا، ارے وہ شخص مجھے لُوٹ کر چلا گیا، اسے پکڑو۔ مگر باہر جاکر دیکھا تو وہ پُراَسرار شخص غائب ہوچکا تھا، بہت تلاش کیا لیکن وہ شخص نہ ملا، اوریوں سیٹھ ہزاروں کی رقم گنوا بیٹھا۔
(۲)پُر اَسرار بوڑھا
    ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ غالباً ۱۹۹۱؁ کی بات ہے میں نیا نیا دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو اتھااور گورنمنٹ اسکول میں بطور استاد ملازمت تھی۔

    ایک دن میں اپنی کلاس میں بچوں کو پڑھا رہا تھا، کہ اچانک کلاس میں ایک پراَسراربوڑھا جس کی داڑھی کے بال آپس میں الجھے ہوئے تھے، سر ننگا تھا، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس چہرے پر چشمہ لگائے داخل ہوا اور قریب آکر کہنے لگا، بیٹا مدینے جائے گا، بیٹا مدینے جائے گا۔مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے چل مدینہ کی خواہش تو پیدا ہو ہی چکی تھی ۔ لہٰذا یہ سن کرمیں اس کی جانب متوجہ ہوا۔ پراَسرار بوڑھے نے قریب آکر گفتگو کرتے کرتے سامنے رکھی کاپی میں سے کاغذ کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر لپیٹا اور
Flag Counter