کچھ لوگ شَرِیْعَت کے خلاف عمل کرنےوالوں، یعنی چرس اور بھنگ کے نشے میں دھت موالیوں کو، مجذوب یافقیر کا نام دے کر، شَرِیْعَت کےخلاف عمل کو (معاذاللہ )ان کیلئے جائز قرار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں! یہ طریقت کا معاملہ ہے، یہ توفقیری لائن ہے، ہر ایک کو سمجھ میں نہیں آسکتی ۔اگر ان لوگوں کو نماز نہ پڑھتا دیکھ کر پوچھا جائے تو( معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ) کہتے ہیں کہ یہ ظاہری شَرِیْعَت ، ظاہری لوگوں کیلئے ہے ، ہم باطنی اجسام کے ساتھ خانہ کعبہ یا مدینے میں نماز پڑھتے ہیں تو یاد رکھیں! یہ گمراہی ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔کیونکہ یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ باطنی شَرِیْعَت یعنی طریقت کا مکھن اسی ظاہری دُودھ سے پید اہوتا ہے اور باطنی علم اسی ظاہری علم سے عیاں ہوتا ہے۔
چنانچہ باطنی نماز یعنی نماز کا حُضور اسی ظاہری نماز میں کمالِ استغراق اور پوری محویت کا نام ہے۔اِسی سے اس کا ظُہوراور اِسی نماز کی حسنِ ادائیگی سے ہی سینہ میں نُور اور باطنی سُروُر پید اہوتا ہے ۔شرِیْعَت کے خلاف عمل کرنے والے جن گمراہ لوگوں کو ظاہری شَرِیْعَت کی پابندی کی تاب اور طاقت نہ ہو، ان کے لئے باطنی شَرِیْعَت کا حُصول کس طرح ممکن ہے۔جن کے پاس دُودھ نہیں انہیں مکھن کہاں سے حاصل ہو۔لہٰذا ایسے جاہل و بے عمل گمراہ لوگوں سے دُور رہنے میں ہی عافیت ہے ۔