Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
203 - 269
    علامہ عبدالمصطفٰے اعظمی علیہ الرحمۃ نے مجذوب کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ،بخاری شریف کی ایک حدیث ہے کہ جس کے مصداق مجذوب اولیا ء ہیں۔

     حضور اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ''بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے بال الجھے ہوئے اور گردو غبار میں اَٹّے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے خستہ حال ہوتے ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے دروازوں پر جائیں تو لوگ حقارت سے انہیں دھکا دے کر نکال دیں۔لیکن خدا کے دربار میں ان کی مَحبوبیت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ کسی بات کی قسم کھالیں تو پروردگارِعالم عَزَّوَجَلَّ ضَرور ضَرور اُن کی قسم پوری فرمادیتا ہے اور اُن کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔

(مشکاۃ المصابیح ،کتاب الرقا ق ،باب فضل الفقراء ، رقم ۵۲۳۱ ،ج ۳ ، ص ۱۱۸)
روحا نی منازل
    اعلٰيحضرت علیہ الرحمۃ مجذوبوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں! کہ وہ خود سلسلہ میں ہوتے ہیں۔ مگر ان کا کوئی سلسلہ، پھر ان سے آگے نہیں چلتا۔ یعنی مجذوب! اپنے سلسلہ میں منتہی(یعنی کامل) ہوتا ہے۔ اپنا جیسا دوسرا مجذوب پیدا نہیں کرسکتا۔

وجہ غالباًیہ ہے! کہ مجذوب! مقام حیرت ہی میں فنا ہوجاتا ہے اور بقاء حاصل کرلیتا ہے۔ اسلئے اُس کی غیر کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔(انوار رضا ، ص ۲۴۳)

    بعض لوگ پیدائشی مجذوب ہوتے ہیں، بعض پر روحانی منازل طے کرتے
Flag Counter