| آدابِ مرشدِ کامل |
میں بِغیر کمبل چادر لئے سُکون، گرمیوں میں لحاف اوڑھ لیں تو پرواہ نہیں۔یعنی مجذوب(بظاہر) ہوش میں نہیں ہوتا۔ اسلئے وہ شَرِیْعَت کا مُکَلَّف بھی نہیں ہوتا۔ یعنی اس پرشرعِی اَحکام لاگو نہیں ہوتے ۔ مگر وہ شرعِی اَحکام کی مخالفت بھی نہیں کرتا۔
نقشِ قَدَم
حضرت شَیخ محی الدین ابنِ عَرَبی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ہر ولی کسی نہ کسی نبی علیہ السلام کے نقشِ قدم پر ہوتا ہے جیسے حضرت مَحبوب سبحانی سید قطب ربانی سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے ''میں بدرِ کامل نبی مکرم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدمِ مبارَک پر ہوں''
اِسی طرح حالتِ جذب والے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر ہیں ۔ مجذوب کو جذب کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے قرب کے ذریعے حاصل ہوتی ہے یعنی مجذوب وہ شخص ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں گم ہوکر رہ جاتا ہے ۔عظمتِ مجا ذ یب
کتابوں میں اَولیاء کرام کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ مجاذ یب کا ذکر خیر بھی ملتا ہے ۔ا ن کی تقلید نہیں کی جاسکتی لیکن ان کی عظمت و رِفْعَت کو صوفیاء کرام نے تسلیم کیا ہے۔