Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
201 - 269
سا لِک اور مَجذ ُوب کے اَحکا م
     عاشقِ اعلیٰ حضرت ،امیرِ اَہلسنّت با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَا لِیَہ اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُِ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نقْل فرماتے ہیں، ''جس نے مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُ س پر دس رَحمتیں بھیجتا اور اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھتا ہے۔ (جامعِ ترمذی ج۱ ص۶۴ مکتبہ دار القران والحدیث ملتان)
صَلّو ا علیٰ الْحَبيب! صَلَّی اللہِ تَعالیٰ علیٰ مُحَمَّد
    سُلوک کے معنی راستے پر چلنا ہے ، اور راستے پر چلنے والے کو سالک کہتے ہیں۔سالک ! شَرِیْعَت وطریقت دونوں کا جامع ہوتا ہے وہ لطائفِ روحانی کی بیداری سے دَرَجہ بدَرَجہ ترقی کرتا ہے۔ اُس وجہ سے اُس کے شُعور کی سَکَت(یعنی قوت) قائم رہتی ہے اور اسکا شُعور مغلوب نہیں ہوتا۔ جبکہ مجذوب لطائف کی بیداری سے یکدم روحانیت کی بلند منزلوں میں مُسْتَغْرِق ہو کر رہ جاتا ہے ۔اُس کی شُعوری صلاحیتیں مغلوب ہوجاتی ہیں ،جس کی وجہ سے وہ ہوش و حواس سے بے نیاز ہوکر دنیاوی دلچسپیوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے ۔یعنی مجاذیب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وہ مخصوص بندے ہیں جنہیں دیگر مخلوق سے کوئی واسطہ و تعلق نہیں ہوتا ۔وہ از خود نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں، نہ پہنتے ہیں نہ نہاتے ہیں، انہیں سردی گرمی ،نفع و نقصان کی خبر تک نہیں ہوتی ۔اگر کسی نے کھلادیا تو کھا پی لیا ،پہنادیا تو پہن لیا، نہلادیا تو نہا لیا، سردیوں
Flag Counter