قابل ہی نہیں اب کسی دوسرے جامع شرائط کے ہاتھ پر بَیْعَت چاہے۔''
(فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ ص ۵۷۵ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)
(دُوُّم) پہلے پیرو مرشد موجود یعنی حیات ہوں لیکن کسی وجہ سے اُن سے اِستِفادہ دشوار ہو مثلاً پیر صاحب مرید سے دور رہتے ہوں اور یہ دور رہنا استفادہ میں رکاوٹ بھی بن رہا ہو، تو اس صورت میں کسی دوسرے جامع شرائط پیر صاحب سے طالب ہوسکتاہے ۔
البتہ اگر مرشِدِ کامل نے تبلیغِ قرآن و سنّت کی غیر سیاسی عالمگیر تحریک کی صورت میں ایسا مضبوط اور وسیع سنتّوں بھرا نظام عطا کردیا ہو جس کے ذریعے مرید بظاہر مرشد کی ظاہری صحبت سے دُور ہو مگر مرشد کی جانب سے ملنے والے تربیت کے مَدَنی پھول جوملفوظات و بیانات یا مَدَنی ماحول کی صورت میں اسکی تربیت کا ذریعہ بن رہے ہوں تو پھر طالب ہونے کی وجہ نہ رہی۔
سیدی اعلیٰحضرت علیہ الرحمۃ سے عرْض کی گئی کہ اپنا مرشد موجود ہو مگر بوجوہات معقولہ واقعی اس سے تعلم مَحال ،تو بغرضِ تعلیم طریقہ کرام دوسرے شَیخ سے طالب ہونا اولیٰ ہے یا بے علم رہنا بہتر ہے؟ آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا:''جہل سے طلب اولیٰ ہے یعنی طالب ہونا اولیٰ ہے مگر پیرِ صحیح سے اِنحراف جائز نہیں، جو فیض ملے اسے شَیخ ہی کی عطا جانے''
(فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ س ۵۸۴ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)
واللہ ورَسُولہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم
مفتی دارالاِفتاء اَحکامِ شَرِیْعَت
٭جامع مسجد الخیر گلیکسی پارک ٭بلاک ۲ کلفٹن بابُ المدینہ(کراچی)
۶ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۵ھ ۲۵ جون ۲۰۰۴