Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
199 - 269
    جب مرشدِ اوّل(جو اُس کا حقیقی مرشد ہے) اور مرشدِ ثانی( جس سے فیض حاصِل کرنے کیلئے طالب ہُوا ہے) کے کسی حکْم میں بظاہر تعارُض آئے اور دونوں کے حکْم عین شَرِیْعَت کے مطابق ہوں تو مرشدِ اوّل کے حکْم کو ترجیح دے۔

سوال(۴):جس مرشِدِ کامل سے طالب ہوئے ان کیلئے کون سا لفظ استعمال کریں ، شَیخ، مطلوب یا رہبر؟

جواب:سَیِّدی اعلیٰ ٰحضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمان نے دوسرے مرشد کیلئے بھی''شَیخ''(یعنی مرشِد) کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔

(فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ ص ۵۸۰ رضا فاؤنڈ یشن مرکز الاولیاء لاہور)

سوال(۵):اپنے پیر کی موجودگی میں کسی مرشِدِ کامل سے طالب ہونے کی ضَرورت کب اور کن حالات میں پڑتی ہے؟

جواب:طالب ہونے کی ضَرورت وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے۔

(اوّل) پیر ومرشد وفات پاجائیں اور طریقت کی تعلیم مکمل نہ ہوتو طالب ہونا بہتر ہے۔ سَیِّدی اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن اسی طرح کے استفتاء کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :''جائز ہے ۔(یعنی کسی بھی جائز وجہ کی بنا پر شَرِیْعَت میں طالب ہونا دُرُست ہے ) اس پر شرع سے(یعنی شَرِیْعَت میں) کوئی ممانعت نہیں جبکہ (جس سے طالب ہو) چاروں شرائط پیری( جو کتاب کے اِبتَداء میں گزریں) کا جامع ہو اگر ایک شرط بھی کم ہے تو اس سے بَیْعَتِ برکت جائز نہیں۔(بلکہ) اگر اس میں وہ شرطیں نہیں تو وہ پیر بنانے کے