Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
198 - 269
سوال(۲):مرید اور طالب میں کیا فرق ہے؟

جواب:طالب اور مرید میں فرق بیان کرتے ہوئے سَیِّدی اعلیٰ ٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:'' مرید غلام ہے اور طالب وہ کہ غیبتِ شَیخ(یعنی مرشد کی عدم موجودگی)میں بضَرورت یا باوُجودِ شَیخ کسی مصلحت سے، جسے شَیخ جانتا ہو یا مریدِ شَیخ غیر شَیخ سے اِستفادہ کرے۔ اسے جو کچھ حاصل ہو وہ بھی فیضِ شَیخ ہی جانے۔'' (فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ ص ۵۵۷ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)

سوال(۳):جس مرشِدِ کامل سے طالب ہوئے کیا ان کا حکْم بجا لانا بھی ضَروری ہے؟کیا اپنے پیرکی طرح اس کے بھی حْقوق ہیں؟

جواب:طالب اپنے شَیخ ثانی سے(یعنی جس مرشد کامل سے طالب ہوا) فیض حاصل کرتا ہے۔ فیض کی تعریف کرتے ہوئے سَیِّدی اعلیٰحضرت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :'' فیض بَرَکات اور نورانیت کا دوسرے پر القاء فرمانا ہے۔''

(فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ ص ۵۶۳ رضا فا ؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)

    یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ طالب اپنے شَیخ ثانی (یعنی جس سے طالب ہوا)سے کامل مَحبت کرے۔ اُس کے اَحکام (جو بلا تاویلِ صریح خلافِ حکْمِ خدا و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نہ ہوں)بجا لائے اور ہر وہ جائز کام کرے جس سے وہ خوش و راضی ہو۔ اُس کی کامل تعظیم و توقیر کرے اور اپنے اقوال و افعال و حرکات و سکنات میں اُ س کی ہدایات کے مطابق( جو شَرِیْعَت کے خلاف نہ ہوں) پابند رہے تاکہ اُس سے فُیوض و بَرَکات حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے۔