ایک جامع شرائط شَیخ کی حیات میں اُ س کے مریدوں کو کسی دوسرے جامع شرائط شَیخ کا طالب ہونا جائز ہے ۔ فتاویٰ فیض الرسول میں ہے:''وہ پیر جو باحیات ہے اس کے مرید کو دوسرا پیر تعلیم، ذکر و اذکار اور اجازت و خلافت دے سکتا ہے۔ خاص کر اس صورت میں جب کہ مرید اپنے پیر سے بہت دور ہو اور دوسرا پیر اسی سلسلہ کا شَیخ ہو۔'' (فتاویٰ فیض الرسول ج ۳ ص ۴۲۰ شبیر برادرز مرکز الاولیاء لاہور)
مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ محمد مصطفی رضاخان علیہ رَحمۃُ الْمَنّان فرماتے ہیں: ''بیشک ایک جامع الشرائط (پیر) کے ہاتھ پر بَیْعَتِ صحیح کرے پھر دوسرے سے بَیْعَت ٹھیک نہیں طلبِ فیض کرسکتا ہے(یعنی طالب ہوسکتا ہے) (فتاویٰ مصطفویہ ۵۳۷ شبیر برادرز)
مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمۃ کے مرشد کریم حضرت سَیِّدنا ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمۃ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:''اگر کوئی شخص کسی اور پیر کا مرید ہو تو اُسے مرید نہ کرے، طالب کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ''۔ (ملفوظات عطّاریہ ، حصہ ۸ ، ص ۱۱۹)
کسی بھی مصلحت یا فائدے کی وجہ سے دوسرے جامع شرائط پیر صاحب سے طالب ہونے پر جواز کا فتویٰ ہے اگرچہ پیر صاحب حیات ہوں جیسا کہ فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ س ۵۵۸ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور میں ہے نیز بُزُرگانِ دین سے طالب ہونا اور کرنا تواتر سے ثابت ہے۔ خصوصاً محقق علی الاطلاق شَیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ اور حضرت شَیخ احمد مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ کی سیرت کا مطالَعَہ کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔