Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
196 - 269
طالب کی شرعِی حیثیت
''اِراد ت'' کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے 5 سُوالات کے جوابات

        (دارالافتاء اَحکامِ شَرِیْعَت کے فتاوٰی    )
سوال(۱):اپنے پیر کی موجودگی میں کسی دوسرے مرشِدِ کامل کے ہاتھ پر طالب ہونے کی شرعِی حیثیت کیا ہے ؟

جواب:اپنے پیرو مرشد کی موجودگی میں کسی دوسرے جامع شرائط پیر سے بَیْعَتِ برکت کرتے ہوئے طالب ہونا جائز ہے۔ اس سے جو کچھ حاصل ہو اُسے اپنے پیر ہی کی عطا جانے۔ 

    سیِّدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:''دوسرے جامع شرائط سے طلبِ فَیض میں حَرَج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلہ صریحہ کا ہواور اس سے جو فیض حاصل ہو اُسے بھی اپنے شَیخ ہی کافیض جانے ۔کما فی سبع سنابل مبارکۃ عن سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ'' (فتاویٰ رَضَویہ ج ۲۶ ص ۵۷۹ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)

    اَحکام شَرِیْعَت اور ملفوظات اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ میں ہے: ''تبدیل بَیْعَت بلاوجہ شرعِی ممنوع ہے اور تجدیدِ(یعنی طالب ہونا) جائز بلکہ مستحب ہے اور جو سلسلہ عالیہ قادِریہ میں نہ ہو اور اپنے شَیخ سے بِغیر انحراف کے اس سلسلہ میں بَیْعَت کرے وہ تبدیل بَیْعَت نہیں بلکہ تجدید ہے کہ جمیع سلاسل اسی سلسلہ اعلیٰ کی طرف راجع ہیںـ''۔ (اَحکام شَرِیْعَت حصہ دُوُّم ص ۱۲۹ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

(ملفوظات اعلٰحضرت علیہ الرحمۃ حصہ اول ص ۲۹ مشتاق بک کارنر مرکز الاولیاء لاہور)
Flag Counter