Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
195 - 269
اور اُس کا تَرجمہ پڑ ھ لیجئے اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وَسوَسہ کی جڑ کٹ جائے گی اور شیطان ناکام و نامُراد ہوگا، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰو ۃُ وَالسَّلام کے مُبارَک قَول کی حِکایت کرتے ہوئے قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ
ترجمہ کنزُالایمان:اور میں شِفا دیتا ہوں مادرزاد اندھوں اور سفید داغ والے (یعنی کوڑھی) کو اور میں مُردے جِلاتا ہوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے۔(پ ۳ سورہ ال عمران آیت ۴۹)

دیکھا آپ نے؟ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰو ۃُ وَالسَّلام صاف صاف فرمارہے ہیں کہ مَیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بخشی ہوئی قدرت سے مادرزاد اندھوں کو بَینائی اور کوڑھیوں کو شِفا دیتا ہوں۔ حتیٰ کہ مُردوں کو بھی زندہ کردیا کرتا ہوں۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے انبِیاء عَلَیھِمُ السّلام کو طرح طرح کے اختیارات عطاء کئے گئے ہیں اور فیضانِ انبیاء علیہم السلام سے اَولیاء ِ کاملین رحمہم اللہ کو بھی عطا کئے جاتے ہیں لہٰذا وہ بھی شِفا دے سکتے ہیں اور بَہُت کچھ عطا فرماسکتے ہیں۔

(فیضانِ بسم اللہ صفحہ نمبر ۵۱ تا ۵۲)

    حضرتِ امام یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب نشرالمحاسن الغالیہ کا مطالعہ فرمائیں، انہوں نے بہت سے اَہلِ سنّت کے اَکابر اَئمہ کرام اور مشائخِ عُظام سے بطورِ کرامت خارِق عادت اشیاء یعنی پیدائشی نابینا کی آنکھیں روشن ہوجانا ، یا چند لمحوں میں طویل سفر طے کرلینے کے واقعات وغیرہ کو نقل کیا ہے ۔    (جامع کراماتِ اولیاء صفحہ نمبر ۱۳۷)
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہِ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
Flag Counter