Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
194 - 269
سے اپنے شب و روز معطر کرنے کی سعی جاری رکھيں ۔ ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے مرید ہو یا طالب ہو یا اہل مَحبت، وہ ولیِ کامل کے فُیوض و بَرَکات کے جام سے ضَرور سیراب ہوگا ۔
وسوسہ کی کا ٹ
وَسوَسہ: ان حِکایات کو سُن کر وَسوَسہ آتا ہے کہ کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ بھی کوئی شِفاء دے سکتا ہے؟

علاجِ وسوسہ :بے شک ذاتی طور پر صِرْف اور صِرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی شفا دینے والا ہے ، مگر اللہ عَزَّوَجَلّ کی عطا سے اس کے بندے بھی شفاء دے سکتے ہیں ۔ اگر کوئی یہ دعوٰی کرے کہ اللہ عَزَّوَجَلّ کی دی ہوئی طاقت کے بِغیر فُلاں دوسرے کو شِفاء دے سکتا ہے تو یقینا وہ کافِر ہے ۔کیوں کہ شِفاء ہو یا دواء ایک ذرّہ بھی کوئی کسی کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بِغیر نہیں دے سکتا۔ ہر مسلمان کا یِہی عقیدہ ہے کہ انبِیاء و اَولیاء عَلَیھِمُ السّلام ورَحِمَھُمُ اللہ جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ مَحْض اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے دیتے ہیں، معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفاء دینے کا کچھ عطا کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ تو ایساشخص حُکمِ قراٰنی کو جھٹلا رہا ہے ۔ پ ۳ سورہ اٰلِ عمران کی آیت نمبر ۴۹
آسما ن ہے جو ولایت کا اُسی چرخِ کُہَن

کے چمکتے اِک ستار ے حضرتِ عطّار ہیں
Flag Counter