سے شفاء یاب ہوچکے تھے جنہیں ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا)۔ انہوں نے نہایت عقیدت سے وہ گٹھلی لے لی اور آنکھوں میں امید کے چراغ جلائے واپس لوٹ گئے ۔
تیسرے دن وہ نقشبندی اسلامی بھائی نے انتہائی خوشی کے عالم میں فون کیا کہ اَلْحَمْدُﷲ عَزَّوَجَلَّ میں جو پہلے پانی تک نہیں پی سکتا تھا،امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے تبرک کی بَرَکت سے ایساکرم ہوگیا ہے کہ اب میں نے لوکی شریف کے شور بے میں چپاتی بھگوکر کھانا شروع کردی ہے ،اَلْحَمْدُﷲعَزَّوَجَلَّ دَرْدمیں بھی کمی ہے، دُعاء فرمائیں ،اﷲعَزَّوَجَلَّ مجھے کامل شفا ء عطا فرمائے ۔ پھر انہوں نے مجلسِ مکتوبات و تعویذات عطّاریہ کے مکتب سے تعویذاتِ عطّاریہ حاصل کئے اورپلیٹوں(ایک مخصوص روحانی علاج)کا کورس بھی شروع کردیا، اَلْحَمْدُﷲعَزَّوَجَلَّ تعویذاتِ عطّاریہ کی بَرَکت سے انہیں کچھ ہی عرصے میں اس موذی مَرَض سے نَجات مل گئی اور وہ مکمل صحتیاب ہوکرامیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ سے طالب بھی ہوگئے ۔ اور اَلْحَمْدُﷲ عَزَّوَجَلَّ ربیع النورشریف ۱۴۲۵ھ کوجشنِ ولادت کی خوشی میں ہونے والے چراغاں و سجاوٹ میں بھرپور حصہ لیتے نظر آئے۔ (ملخصاً رسالہ''برکاتِ تعویذاتِ عطّاریہ''حصہ دُوُّم ص ۱۳)