سے مایوس ہوچکے ہیں اوراب میری بھی ہمت جواب دینے لگی ہے۔۔۔۔۔۔میں نے کئی عاملوں کو بھی دکھایا!کوئی کہتا ہے کہ کالا علم کرایا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ کسی کا کہناہے کہ'' ہندو جنّ کا معاملہ ہے۔'' ہزاروں روپے برباد کرنے کے بعد اب میں مُعاشی طور پرتقریباً کنگال ہوچکا ہوں اورقرض پر گزارہ ہے۔ میری بہن لاہور سے بذریعہ ہوائی جہاز آخری ملاقات کیلئے آئی ہوئی ہے، دیگررشتے دار بھی گھر پر جمع ہیں۔۔۔۔۔۔میں پندرہ دن سے کچھ کھا نہیں سکا ہوں حتی کہ پانی بھی ہَضْم نہیں ہوتا، پیتاہوں تو تڑپاکر رکھ دیتا ہے،جب میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔''
دورانِ گفتگووہ اسلامی بھائی مسلسل روتے رہے۔میں نے انہیں سینے سے لگا کر تسلی دی اورسمجھایا کہ بھائی مرنے کیلئے مَرَض ضَروری نہیں،آپ مایوس نہ ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ بہتر سبب فرمادیگا۔
وہ نقشبندی اسلامی بھائی امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے نہ تو مُرید تھے اور نہ ہی طالب البتہ آپ دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ سے بے انتہا عقیدت رکھتے تھے۔ لہٰذا میں نے ان سے عرْض کی کہ میرے پاس امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کا تبرک (یعنی استعمال شدہ شی)ہے،حدیثِ مبارَکہ ہے کہ ،''مومن کے جوٹھے میں شِفاء ہے ''جب عام مومن کے جوٹھے میں اتنا اثر ہے تو اﷲ کے ولی کے تبرک کی کیسی بَرَکت ہوگی ۔ یہ کہہ کر آم کی میں نے وہ گُٹھلی جو امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے چوسی تھی، ان کی طرف بڑھا دی (جس کے استعمال کی بَرَکت سے پہلے بھی چار ایسے مریض اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلٰی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ سلم کی عطا