Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
191 - 269
ہوتو اس کی بَرَکتیں حیران کُن ہوتی ہیں۔جیسا کہ خوش نصیب حافظ صاحب نقشبندی جوامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے'' طالب'' تھے مگر ایک ولیِ کامل سے محبت، اَدَب، یقین اور مضبوط اِرادَت کی بدولت اُن کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہِ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
    اب ایک ایسے لبِ دم نوجوان مریض کا واقعہ پیشِ خدمت ہے جو امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مرید تھا نہ طالب، مگر اُس کی عقیدت ،محبت اور اَدَب نے اُسے نئی زندگی عطا کردی ۔
 (۲) ولیِ کامل کے تبرک کی بَرَکت
بابُ الاسلام سندھ کے شہر( حیدرآباد) کے علاقہ ہیرآباد کے مقیم اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ایک اسلامی بھائی جو کسی اور پیر صاحب سے نقشبندی سلسلے میں مُرید تھے ،اورخطرناک موذی مَرَض میں مبْتَلا تھے، مجھ سے ملے اور گلے لگ کے رونے لگے۔۔۔۔۔۔انہوں نے کچھ اس طرح سے بتایاکہ مجھے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، وہ کہتے ہیں،'' جس مَرَض میں تم مبْتَلا ہو طِبْ میں ابھی تک اسکا علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے،ہم تمھیں اندھیرے میں رکھنا نہیں چاہتے۔ ''میرے والدین میری زندگی
علْم ظاہر ہے فقط تو قلْب دیدہ وَر بنا

تُو کہے گا مجھ کو پیارے حضرتِ عطّار ہیں

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو
Flag Counter