بابُ الاسلام سندھ کے شہر( حیدرآباد) کے علاقہ ہیرآباد کے مقیم اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ایک اسلامی بھائی جو کسی اور پیر صاحب سے نقشبندی سلسلے میں مُرید تھے ،اورخطرناک موذی مَرَض میں مبْتَلا تھے، مجھ سے ملے اور گلے لگ کے رونے لگے۔۔۔۔۔۔انہوں نے کچھ اس طرح سے بتایاکہ مجھے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، وہ کہتے ہیں،'' جس مَرَض میں تم مبْتَلا ہو طِبْ میں ابھی تک اسکا علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے،ہم تمھیں اندھیرے میں رکھنا نہیں چاہتے۔ ''میرے والدین میری زندگی
علْم ظاہر ہے فقط تو قلْب دیدہ وَر بنا
تُو کہے گا مجھ کو پیارے حضرتِ عطّار ہیں
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو