ایک اور طویل صحیح حدیثِ مبارکہ میں اس طرح بھی آیا ہے! کہ قِیامت کے دن رب العالمین عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کو سامنے بلا کر فرمائے گا۔ تمہاری فلاں فلاں دعا، فلاں وقت ہم نے قبول فرمائی، مگر اس کااثر ہم نے بدل دیا۔ اس کے بدلے تم پر مصیبت آنے والی تھی، ہم نے فُلاں دعا کے سبب وہ مصیبت دفع کردی۔ اور تمہیں اس کے صدمے سے بچالیا۔ (ایضاً)
معلوم ہوا! کہ اللہ تعالیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دعا کا اثر ظاہر نہ ہونا اور آخِرت کیلئے اٹھا رکھنا یا کسی بلا کو ٹال دینا کمالِ رَحمت کی دلیل ہے۔اوریہ بھی معلوم ہوا کہ مصیبتیں بڑی آفتوں کے ٹلنے کا سبب بھی ہوتی ہے۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے۔ اور مصائب وآلام گناہوں کے مٹنے اور دَرَجات بلند ہونے کا سبب بھی ہوتے ہیں۔
ہماری تو یہی دعا ہونی چاہے !کہ اے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ہمارے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل فرما کر بِغیر آزمائش کے ہمیں دنیا اور آخِرت کی بھلائیاں عطافرماکرہر بلا و مصیبت سے مَحفوظ فرما۔ اور ایمان و عافِیت کے ساتھ مدینے میں موت ، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں پیارے پیارے آقا صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پڑوس عطا فرما۔(امین بجاہ النبی الامین صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم)