Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
182 - 269
رکتی ہی نہیں۔ اب کیا معلوم! کہ اسے کینسر کا مَرَض ہوناتھا، مگر کھانسی کے ذریعے بدل دیا گیا۔ کسی کو کینسرہے، علاج کے لئے رقم نہیں،یا دعا کرائی مگر مَرَض صحیح نہیں ہوا، تو ہوسکتا ہے کینسر کا مَرَض دے کر اس کے بدلے ایمان وعافِیت کی موت اور جنّت میں پیارے پیارے آقا صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پڑوس نصیب میں لکھ دیا گیا ہو۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے!
 وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾٪
 (ترجمہ کنزالایمان) اور قریب ہے! کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ اور قریب ہے! کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو۔اور اللہ جانتا ہے۔ اورتم نہیں جانتے۔ (پ۲،البقرہ آیت۲۱۶)

حضرت ابی سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے! کہ جنابِ رسولِ کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا! جب کوئی مسلمان بندہ دعا کرتا ہے تو وہ دعا ضَرور قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ! کسی گناہ یا ناجائز بات کے لئے، یاکسی بیگا نے مسلمان کی تکلیف دہی کیلئے دعا نہ کی ہو۔ لیکن اس کا اثر یا تو یہاں ظاہر ہوجاتا ہے، یا دعا کا اثر دوسری صورت میں نظر آتا ہے! کہ کوئی آسمانی یا دُنیوی بلا اور مصیبت اس بندے پرنازل ہونیوالی تھی، وہ اس کی دعا سے دفع ہوگئی۔ اور اس بندے کو اس بلا کی خبربھی نہ ہوئی۔ یا اس کی دعا کا اثر قِیامت میں ظاہر ہوگا۔ جو نہایت ضَرورت کا
Flag Counter