پچھلے صفَحات کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوگئی ! کہ پیر اُمورِ آخِرت کیلئے بنایا جاتا ہے۔ مگر ضمناً ان سے دُنیوی مشکلات بھی دور ہوتی ہیں، تو کبھی مشکلات کا دورنہ ہونا بھی مصلحت سے خالی نہیں ہوتا ،اسلئے ناقص اور کامل پیر کا امتیاز رکھتے ہوئے،صاحب ِشریعَت وطریقت کے ہی دامن سے وابستگی حاصل کرنی چاہیے۔کسی بے شَرْع مثلاً، بے نمازی داڑھی منڈے یاداڑھی کو ایک مٹھی سے گھٹانے، فلمیں ڈرامے دیکھنے، گالیاں بکنے، جھوٹ بولنے ،بے پردگی کے ساتھ عورتوں سے ملنے ، عورتوں کو ہاتھ چوموانے، عورتوں سے پاؤں دبوانے والے کی بَیْعَت ہرگز جائزنہیں۔ لہٰذا! اگر لاعلمی میں ایسے پیر کے مرید ہوگئے ہوں، تو بَیْعَت توڑدینا لازمی ہے۔
بہر حال کسی بھی نام نہاد صوفیت کا لبادہ اوڑھ کر، شریعَت اور طریقت
میں فرق بتاکر،اپنی بداعمالیوں کو چُھپانے کی کوشش کرنے والوں سے، ہر صورت بچنا چاہے! کہ فرائض و واجبات چھوڑنے اور کبیرہ گناہ کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں۔
ان تمام باتوں سے پتا چلا، کے شریعَت و طریقت الگ نہیں بلکہ طریقت میں ترقی کیلئے شریعَت کی ہرآن ضَرورت ہے۔