میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتہم العالیہ "فیضانِ رَمَضان میں"تحریر فرماتے ہیں کہ بظاہر تاخیر سے گھبرانا نہیں چاھئيے۔ ربّ َّعَزَّوَجَلَّ َ کی مصلحتیں ہم نہیں سمجھ سکتے،دیکھئے !۔۔۔
دعائے سَیِّدنا موسٰی کلیم اللہ علٰی نبینا علیہ الصلوۃ و السلام کے چالیس برس بعد فرعون غرق ہوا۔
دعائے سَیِّدنا یعقوب علٰی نبینا علیہ الصلوۃ و السلام کے اسی برس بعدسَیِّدنا یوسف علٰی نبینا علیہ الصلوۃ و السلام سے ملاقات ہوئی۔(فیضانِ رمضان ص۱۲۲)
یہ بات بھی ذہن میں رہے! کہ پریشانی دور ہونا یاکس مریض کا صحت یاب ہونا، بارگاہِ الہیٰ عَزَّوَجَلَّ میں منظور ہوتا ہے۔ تو اس کے لئے دنیا میں کوئی نہ کوئی سبب بن جاتا ہے۔
حضرت سَیِّدنا عبدالقادرالجزائری علیہ رحمۃُ اللہِ الْباری فرماتے ہیں! کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جس چیز کا ارادہ فرماتا ہے، تو اس کے اسباب مہیا فرمادیتا ہے۔(حقائق عن التصوف ، ص ۶۵)
اولیاء کرام رحمھم اللہ سے مشکلات کے حل کے لئے کرامات کا ظاہر ہونا بھی، ایک ایسا ہی مَدَنی سبب ہے۔
یہ بھی یاد رہے! کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے! کہ کس کے لئے کیا بہتر ہے۔ مثلاً کسی کا روزگار نہیں، یا گھر میں کھانسی کا مَرَض ہے۔ دعا کی گئی۔ مگر کھانسی