Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
180 - 269
اعلٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں !کہ اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ میں کبھی کسی بُزُرگ کے پاس دُنیوی حاجت لے کر نہ گیا۔ جب بھی گیا، اسی خیال سے گیا، کہ ان سے دعائے مغفِرت کراؤں گا۔

غرض! دوہی قدم ان کی طرف چلا تھا، کہ ان بُزُرگ نے میری طرف منہ کرکے، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر، تین مرتبہ فرمایا! الٰھم اغفرلا خی ھٰذا ( اے اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے اس بھائی کو بخش دے)میں نے سمجھ لیا! کہ فرماتے ہیں! کہ ہم نے تیرا کام کردیا، اب تم ہمارے کام میں مخل نہ ہو۔ میں ویسے ہی لوٹ آیا۔

(الملفوظ شریف حصہ چہارم،ص۳۸۵)

اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ اعلٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مکی مَدَنی سوچ کی رَہنمائی سے پتا چلا! کہ اولیاء کرام کی بارگاہ امورِ آخِرت کی بہتری کے لئے ہوتی ہے۔ لہٰذا پیرومرشِد کے دامن سے وابستہ ہوتے ہوئے، مذکورہ مقصدہی پیشِ نظرہونا چاہیے تاکہ شیطان کم علمی کے باعث وسوسہ ڈال کر گمراہ نہ کرسکے۔
وساوس کی کاٹ
اسی طرح ہوسکتا ہے کبھی کسی نے اپنے یا کسی اور کے مرض یا پریشانی کے حل کے لئے،اَورادووظائف پڑھے، مزارات پر حاضری دی،یا اپنے پیرومرشِد کی بارگاہ میں حاضرہوکردعا بھی کرائی، مگر اس کی پریشانی دور نہ ہوئی ہو۔ تو معلومات نہ ہونے کے باعث شیطان وسوسہ ڈال سکتا ہے! کہ اتنا عرصہ گزر گیا ، میری پریشانی تو دور نہیں ہوئی؟
Flag Counter