اعلٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں! حج کی پہلی حاضری کے وقت منیٰ شریف کی مسجدمیں مغرب کے وقت حاضر تھا۔ اس وقت میں اَوراد ووظائف بہت پڑھا کرتا تھا۔
بحمدا للہ تعالیٰ میں اپنی حالت وہ پاتا ہوں، جس میں فقہاکرام نے لکھا ہے! کہ سنتیں بھی ایسے شخص کو معاف ہیں۔ لیکن اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑیں۔ خیر ! جب سب لوگ مسجد سے چلے گئے، تو مسجد کے اندرونی حصے میں ایک صاحب کو دیکھا، کہ قبلہ رو اَورادو وظائف میں مصروف ہيں، میں ! صحن میں مسجد کے دروازے کے پاس تھا۔ اور کوئی تیسرا مسجد میں نہ تھا۔ یکایک ایک آواز گنگناہٹ کی سی، مسجد کے اندر معلوم ہوئی۔ جیسے شہد کی مکھی بولتی ہے۔
فوراًمیرے دل میں یہ حدیث مبارکہ آئی! کہ َاہلُ اللہ کے قلْب سے ایسی آواز نکلتی ہے، جیسے شہد کی مکھی بولتی ہے ۔میں وظیفہ چھوڑ کر ان کی طرف چلا! کہ ان سے دعائے مغفِرت کراؤں۔