عملیات میں ماہر ہو، اور دنیاوی مشکلات حل کردیا کرے۔ہر گز ایسا نہیں! حقیقت میں پیر امورِ آخِرت کے لئے بنا یاجاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے! کہ ضمناً ان سے دُنیوی بَرَکتیں، مثلاً بیمار کو شفاء یا مشکلوں کا حل ہونا بھی ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ مگر صرف دُنیوی مسائل کے حل کے لئے، مرشِدِ کامل سے مرید نہیں ہواجاتا۔
اس لئے کوئی کہے! کہ تمہارا پیر کامل ہوتا تو تمہاری پریشانی، بیماری، جنات کے اثرات اور جادو ٹونے کے معاملات حل ہوجاتے۔ تو یہ بے وقوفی و نادانی ہے، کہ پیر اس لئے نہیں بنایاتھا، پیرتو آخِرت کے معاملات کے لئے ہوتا ہے۔
شہزادہ اعلٰحضرت مفتیِ اعظم ہند مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا خاں بریلوی قدس سرہ، اپنے والد ماجد اعلٰحضرت مجددِ دین و ملت الشاہ امام اَحمد رضا خاں بریلوی نور اللہ مرقدہ، کے قصیدہ الاستمداد علیٰ اجیاد الارتداد کی شرح میں فرماتے ہیں!امام سَیِّدنا عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ نے میزانِ الشریعۃ الکبریٰ میں فرمایاہے! کہ بے شک سب آئمہ و اَولیاء و عُلَماء(و مشائخ کرام رحمھم اللہ) اپنے پَیروں کاروں اور مریدوں کی شفاعت کرتے ہیں، اور (۱) جب انکے مرید کی روح نکلتی ہے، (۲)جب منکر نکیر ان سے قبر میں ُسوال کرتے ہیں، (۳)جب حشْر میں اس کا نامہ اعمال کھلتا ہے، (۴)جب اس سے حساب لیا جاتا ہے یا(۵) جب اس کے اعمال تولے جاتے ہیں، اور (۶)جب وہ پل صِراط پر چلتا ہے، ان تمام مراحل میں، وہ اس کی نگہبانی کرتے ہیں، اور کسی جگہ بھی غافل نہیں ہوتے۔(المیزان الکبری ، باب مثال طر ق مذاھب الائمۃ المجتھدین ، ج ۱ ، ص ۵۳)