حضرت جُنیدبَغْدادی علیہ رَحمۃ الھادی جب ضعیف ہوگئے، تو بھی ! جوانی کے اَور ادوو ظائف و نفْلی عبادات میں سے بھی کچھ ترْک نہ کیا۔ لوگوں نے عرْض کی! حضور آپ ضعیف ہوگئے ہیں، لہٰذا بعض نفْلی عبادات ترْک فرمادیجئیے۔ فرمایا! جو چیزیں اِبتَداء میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضْل سے، میں نے حاصل کی، محال(یعنی ناممکن) ہے! کہ اب انتہا میں چھوڑدوں۔ (کشف المحجوب ص ۴۵۹)
غوثِ پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! یہ خیال کرنا، کہ شرعِی مکلفات کسی حال میں ساقط ہوجاتے ہیں، غلط ہے۔فرض عبادات کا چھوڑنا زندیقیت (یعنی بے دینی) ہے۔حرام کاموں کا کرنا معصیت (یعنی گناہ) ہے۔ فرض کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا۔ (حقائق عن التصوف ، الباب الخامس ، التحذیر من الفضل بین الحقیقۃ والشریعۃ ،ص ۴۸۸)
بُزُرگانِ دین رحمھم اللہ کے مذکورہ اقوال مبارَکہ سے یہ بات واضح ہوگئی! شریعَت و طریقت کے احکام الگ نہیں۔اب مرید ہونے اور اس کے بعد کی مزید احتیاطيں آئندہ صفَحات میں ملاحظہ فرمائیں۔