(۳)حضرت خواجہ فُضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ نے ایک مرتبہ (عاجزی کرتے ہوئے فرمایا)! اگر اس سال میں حج میں شریک نہ ہوتا، سب بخشے جاتے۔ میرے شامت سے مَحروم رہیں، توبعید نہیں۔
(۴)حضرت عطا سُلَمِی علیہ الرحمۃ جب کسی کو بیمار ہوتا دیکھتے تو اپنا پیٹ کوٹتے اور(عاجزی فرماتے ہوئے کہتے)! میری شامت سے خلق پر بلا آتی ہے۔
(۵)حضرت سَری سَقطی علیہ الرحمۃ ( عاجزی کرتے ہوئے فرماتے)! کہ میں ہرروزآئینے میں منہ دیکھ لیتاہوں کہ کہیں کا لا نہ ہوگیا ہو۔ اگر حضرت(پیرومرشِد) کی دعا نہ ہوتی، تو بیشک مجھ جیسے لوگ مسخ ہوجاتے یا زمین میں دھنس جاتے۔ میری آرزو ہے، اپنے شہر میں نہ مروں، شاید زمین مجھے قبول نہ کرے اور ہم چشموں میں رسوائی ہو۔
(۶)حضرت ابن سَمَّاک علیہ الرحمۃ(عاجزی کرتے ہوئے اکثر فرمایا کرتے)! اے نفس تو زاہدوں کی سی باتیں کرتا ہے اور منافقوں کے کام۔ (سُرورُالقُلوب ص،۲۱۴)
معلوم ہوا کہ! حقیقی اَہلِ طریقت، شریعَت کو ہر آن پیش نظر رکھتے ہیں۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب پا نیکے باوُجود خوفِ خدا میں لرزاں رہتے ہیں۔
وہ لوگ جو شریعَت کے خلاف عمل کرتے ہیں،اور کہتے ہیں !کہ ہم اس مقام پر ہیں! کہ ہمیں اب عمل کرنے کی ضَرورت نہیں، یہ طریقت کی باتیں ہیں، ہر ایک نہیں سمجھ سکتا، تو وہ ا پنے آپ کو اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔