Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
174 - 269
شَیخ اَحمد زروق علیہ الرحمۃ نے فرمایا! جو پیر سنت کو نہ اپنا سکا۔ اس کی اتباع دُرُست نہیں۔ خواہ وہ (بظاہر) ہزار کرامتیں دکھائے۔ (وہ سب اِستدراج یعنی دھوکا ہے)۔ (حقائق عن التصوف ، البا ب الخامس ، التحذ یر من الفصل بین الحقیقۃ الشریعۃ ، ص ۴۸۷)
قرآن و سنت
حضرت جُنید بَغْدادی علیہ رَحمۃ الھادی نے فرمایا ! ہماری طریقت قرآن و سنت کے ساتھ مشروط ہے۔ اور راہ طریقت! نبی کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیروی اور سنت کی تابعداری کے بِغیر طے نہیں ہوسکتی۔(اَیضاً)

اَولیاءِ کاملین رحمھم اللہ آسمانِ ِ ولایت کے دَرَخشندہ ستارے ہونے کے باوُجود عمل میں کمی کرنا تو دور کی بات!بلکہ اعمالِ صالحہ کی کثرت کے باوُجود عاجزی کے عظیم پیکر ہوا کرتے تھے۔
مقامِ غور
اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃکے والد بُزُرگوار رئیسُ الْمُتَکَلِّمِیْن سَیِّدی علامہ مولانانقی علی خان قُدِّسَ سِرُّہ اکابر مشائخِ کِرام رَحِمَھُمُ اللہ کے عاجزی کے قول نقْل فرماتے ہیں
''یا اللہ''عَزَّوَجَلَّ کے چھ مقدس حُرُوف کی نسبت سے عاجزی کے۶ اقوال
(۱)حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ (عاجزی فرماتے ہوئے کہتے)! اگر سارے عالم کے گناہ جمع ہوں، تو بھی میرے گناہ سے کم نکلیں۔

(۲)حضرت محمد واسع علیہ الرحمۃ( عاجزی کرتے ہوئے فرماتے)! اگر گناہوں سے بدبو آتی ، تو میرے پاس کوئی بیٹھ نہیں سکتا۔
Flag Counter