| آدابِ مرشدِ کامل |
حضرت قطبِ ربانی شاہ محمد طاہر اشرف جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں!کہ اگر کوئی شخص ہوا پر اُڑ رہا ہو، پانی پر چلتا ہو، یا(بظاہر) کتنا ہی صاحب ِ کمال نظر آئے، لیکن شریعَت کے خلاف عمل پیراہو، تو اس شخص یا (نام نہاد پیر)کو باکمال بُزُرگ نا جانے، وہ یقینا کوئی شُعْبَدَہ باز (یعنی دھوکے باز)ہوگا۔ (صراط الطالبین صفحہ ۱۹۱)
روحانی ترقی
حضرت نظامُ الدین اولیاء رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں! آدمی روحانی ترقی میں حقیقت تک پہنچ جائے، اور وہاں اس سے کوئی خطا سرزد ہو جائے اوروہ نیچے گرایا جائے، تو حقیقت سے نیچے مقام طریقت میں گرے گا۔ اور اگر طریقت میں کوئی غلطی ہو، تو شریعَت میں گرے گا۔ لیکن اگر شریعَت میں غَلَطی ہوجاے تو نیچے کا دَرَجہ دوزخ ہی ہے۔گویا سب سے اَہم حفاظت شریعَت ہی کی حفاظت ہے۔ (فوائدالفوائد) غوثِ پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! اگر حدودِ شریعَت میں سے کسی حد میں خلل آئے، تو جان لے تو فتنے میں پڑا ہے اور بیشک شیطٰن تیرے ساتھ کھیل رہا ہے۔ (طبقاتِ اولیاء ج ا ص ۱۳۱) حضرت ابوسعید خراز علیہ الرحمۃ نے فرمایا! ہر وہ بات جو ظاہر کے مخالف ہو باطل ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ، ابو سعید احمد بن عیسی الخزاز ، ص ۶۱)