حضرت جُنید بَغْدادی علیہ رَحمۃ الھادی کے سامنے کسی شخص نے معرِفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: کہ کیا اَہلِ معرِفت، ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں، کہ جہاں ان کو عمل کی ضَرورت نہیں رہتی اور وہ ظاہری اعمال چھوڑ دیتے ہیں۔
آپ علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا! کہ اس طرح خیال کرنا ، یا اس بات کا یقین کرنا، گناہِ عظیم ہے۔ اور جو شخص اس بات کا قائل ہو، اس سے تو چور اور زانی بہتر ہے۔
مزیدارشاد فرماتے ہیں!کہ میں اگر ہزار برس زندہ رہوں، تو فرائض و واجبات تو بڑی چیز ہیں، جو نوافل و مستحبات مقرر کرلئے ہیں بے عذرِ شرعِی ان میں سے کچھ کم نہ کروں۔ (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائدالاکابر،طبقات الصوفیہ رسالہ قشیریہ)