Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
172 - 269
احکام شریعَت
حضرت جُنید بَغْدادی علیہ رَحمۃ الھادی کے سامنے کسی شخص نے معرِفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: کہ کیا اَہلِ معرِفت، ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں، کہ جہاں ان کو عمل کی ضَرورت نہیں رہتی اور وہ ظاہری اعمال چھوڑ دیتے ہیں۔ 

آپ علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا! کہ اس طرح خیال کرنا ، یا اس بات کا یقین کرنا، گناہِ عظیم ہے۔ اور جو شخص اس بات کا قائل ہو، اس سے تو چور اور زانی بہتر ہے۔

مزیدارشاد فرماتے ہیں!کہ میں اگر ہزار برس زندہ رہوں، تو فرائض و واجبات تو بڑی چیز ہیں، جو نوافل و مستحبات مقرر کرلئے ہیں بے عذرِ شرعِی ان میں سے کچھ کم نہ کروں۔ (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائدالاکابر،طبقات الصوفیہ رسالہ قشیریہ)
قبلہ شریف کا اَدَب
حضرت با یزید بُسطامی رضی اللہ عنہ ایک شخص سے ملنے گئے۔ جو! زُہدو ولایت کا دعویدار تھا۔ آپ کے سامنے اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔ آپ اس سے ملے بِغیر واپس آگئے اور فرمایا ! یہ شخص شریعَت کے ایک اَدَب کا امین نہیں ہے، تو اَسرارِالہی پر کیونکر امین ہوگا۔

مزید فرمایا !اگر تم کسی میں (بظاہر) بڑی کرامتیں دیکھو۔ یہاں تک کہ وہ ہوا میں اڑتا ہو، تب بھی اس سے دھوکہ نہ کھانا۔ جب تک اسے شریعَت کی کسوٹی پر نہ پرکھ لو۔(الرسالۃ القشیر یۃ ، ابو یز ید بن طیفور بن عیسی البسطامی ، ص ۳۸ ، ۳۹)
Flag Counter