Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
171 - 269
امامِ اعظم علیہ رَحمۃُاللہ المُعَظَّم نے فرمایا! اگر میری زندگی میں یہ دوسال (جو میں نے امام جعفر صادق علیہ الرحمۃ کی خدمت میں گزارے) نہ ہوتے تونعمان(علیہ الرحمۃ) ہلاک ہوگیا ہوتا۔(ایضاً)

معلوم ہوا کہ ناقص اور کامل پیر کاا متیاز رکھتے ہوئے کسی مرشِد کامل کے دامن سے وابستہ ہو کر ان کی صحبت پانا نہایت ضَروری ہے۔اور اس کے ساتھ یہ جاننا بھی لازمی ہے کہ !مرشِد بناتے وقت کیا مقصد پیش نظر ہونا چاہے۔ تاکہ شیطان لاعلمی کے سبب وسوسے ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ اگلے صفَحات میں شریعَت اور طریقت کے اَحکام کی وضاحت کے ساتھ پیر بنانے کے اصْل مقصد کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
شریعَت و طریقت کے اَحکام
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ کہ شریعَت مَنْبَع ہے ، اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایک دریا ہے۔ عُموماً !کسی مَنْبَع یعنی پانی نکلے کی جگہ سے اگر دریا بہتاہو، تو اسے

زمینوں کو سیراب کرنے میں مَنْبَع کی حاجت نہیں ہوتی۔ لیکن شریعَت! وہ منبع ہے کہ اس سے نکلے ہوئے دریا، یعنی طریقت کو، ہر آن اس کی حاجت ہے۔

اگر شریعَت کے مَنْبَع سے طریقت کے دریا کا تعلق ٹوٹ جائے، تو صرف یہی نہیں، کہ آئندہ کیلئے اس میں پانی نہیں آئے گا، بلکہ یہ تعلق ٹوٹتے ہی دریائے طریقت فوراً فنا ہوجائے گا۔     (مقال عرفاء با عزاز شرع و علماء)
Flag Counter