Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
170 - 269
امام غزالی علیہ رَحمۃُالْوالی ارشاد فرماتے ہیں۔ اگرآنکھ کو مباح (یعنی خوشنما مناظر وغیرہ) دیکھنے کی اجازت دیں گے ، تو یہ دَلیر ہوگی۔ اور پھر یہ ناجائز کا مطالبہ کرے گی۔ لہٰذا بد نگاہی سے توبہ میں مضبوطی کیلئے ۔ بعد تو بہ تقویٰ ( یعنی نظر جھکاکر رکھنے کی عادت ڈالنا ) ضَروری ہے۔اسی طرح کسی نے بد نگاہی سے توبہ کی ، مگر تقویٰ نہ اپنا یا، مثلاً نظر جھکا کر رکھنے کی سعی نہ کی۔تو یہ توبہ کمزور ہے کہ دوبارہ بدنگاہی کی نُحوست میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ اختیار کرنے کے ساتھ اس میں استقامت بھی لازمی امْر ہے۔ایسا نہ ہوکہ کبھی نظر جھکائی تو کبھی اِدھر ُادھر دیکھنے کی عادت بھی رہی کہ یہ تقویٰ ناقص ہے۔ کہ اس طرح نظر جھکاکر چلنے کی عادت نہ بننے کے سبب وہ دوبارہ بدنگاہی کے برباد کن مَرَض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔لہٰذا! بعد توبہ تقویٰ اور اس میں استقامت ،بدنگاہی سے مَحفوظ رہنے کیلئے ضَروری ہے۔

مشائخِ کرام فرماتے ہیں!حقیقی توبہ کے حُصول،دل کو تقویٰ کی طرف مائل کرنے، اور طریقت کے ُرموز جاننے کے لئے، مرشِد کامل کے دامن سے وابستہ ہوکر ان کی صحبت پانا لازمی امْر ہے۔

سَیِّدنا امام اعظم علیہ الرحمۃعلم دین کے حُصول کے باوُجود امام اعظم علیہ رَحمۃُاللہ المُعَظَّم جیسے علم کے بیکراں سَمُنْدر نے بھی علومِ طریقت، حضرت امامِ جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبتِ بابَرَکت و مجالس سے حاصل کئے۔