حضرت ذُوالنُّون مصری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں! عوام کی توبہ گناہوں سے اور خواص کی غفلت سے ہوتی ہے۔
حضرت عبداللہ تمیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں! توبہ کرنے والوں میں فرق ہے۔ بعض گناہوں اور خطاؤں سے توبہ کرتے ہیں۔ بعض لغزشوں اور غفلتوں سے توبہ کرتے ہیں۔اور بعض اپنی نیکی اور طاعت کو دیکھنے سے توبہ کرتے ہیں۔
عطیہ بن عروہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت متقی بن سکتا ہے، جب وہ ان کاموں سے بچنے کی خاطر، جن میں شرعِی قباحت ہو، ان کاموں کو چھوڑ دے، جن میں کوئی قباحت نہیں۔ (ترمذی)
شَیخ اَحمد زروق علیہ الرحمۃ نے فرمایا!جس توبہ کے بعد تقویٰ نہ ہو ، وہ توبہ باطل (یعنی کمزور)ہے ۔ اور جس تقویٰ میں استقامت نہ ہو وہ
ناقص ہے۔ (قواعد التَصَوُّف، ص ۱۷۷)
مذکورہ حدیث مبارکہ اور شَیخ اَحمد زروق علیہ الرحمۃکے قول کو امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتہم العالیہ کے عطا کردہ اس مَدَنی انعام کہ!آپ راہ چلتے وقت آنکھوں پر قفل مدینہ لگاتے ہوئے، حتی الامکان نیچی نگاہیں رکھتے ہیں؟ بلا ضَرورت اِدھر ُادھردیکھنے، سائن بورڈ وغیرہ پر نظر ڈالنے کی عادت تونہیں؟کے ذریعے سمجھئے! اِدھر ُادھر دیکھنے میں بظاہر شرعِی قباحت نہیں ۔مگر اس سے رکنے کامشورہ متقی بنانے کی ایک مَدَنی کوشش ہے۔ تاکہ بد نگاہی کا دروازے اِبتَداء ہی سے بند ہوجائے۔