Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
168 - 269
خداو مصطفٰی عَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی یاد دلائے۔ جن کی باتیں قرآن وسنت کا شوق ابھار نے والی ہوں۔ جن کی صحبت موت و آخِرت کی تیاری کا جذبہ بڑھا تی ہو۔ جو نیکیوں پر استقامت حاصل کرنے کے طریقے بتائے ۔اور خاص طور پر گناہوں سے بچنے کے معاملے میں راہ نمائی کرے۔

کیونکہ سالِک کے لئے ضَروری ہے۔ کہ وہ اپنے نفس کے عُیوب کو پہچانے، توبہ کرنے میں جلدی کرے، اور گناہوں سے لازمی بچے۔ کسی صورت بھی گناہوں کے چھوٹے ہونے کی طرف نہ دیکھے، بلکہ عظمت ربّ عَزَّوَجَلَّ کی طرف دھیان کرے اور صحابہ کرام علیھم الرضوان کی پیروی کرے کہ وہ عظمتِ ربّ عَزَّوَجَلَّ کے سبب معمولی گناہ کو بھی مُہلِک (یعنی ہلاک کردینے والا) سمجھتے تھے۔

حضرتِ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں! آج تم لوگ ایسے اعمال میں مبتلا ہو، جسے تم بال سے زیادہ باریک سمجھتے ہو۔ جب کہ ہم حضورِ اقدس صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں اسے ہلاک کرنے والا سمجھتے تھے۔ (حقائق عن التَصَوُّف، ص ۸۱)

امام بَرکومی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جو اپنے نفْس کے عُیوب کو نہ جانتا ہو ، وہ بہت جلد ہلاکت میں پڑجاتا ہے۔ کیونکہ گناہ کفر کے پیام بَر ہیں        (رسالہ قشیریہ،ص۲)

اہل طریقت کی توبہ مشائخِ کرام فرماتے ہیں!اَہلِ طریقت صرف گناہوں سے توبہ نہیں کرتے جو کہ عوام کاطریقہ ہے،بلکہ وہ ہر اس بات سے توبہ کرتے ہیں، جو انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل رکھے۔