Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
167 - 269
مفسرین کرام کے مطابق ان آیاتِ مبارَکہ میں باطنی بے حیائی سے مراد خود پسندی، رِیا،حَسَد اور نِفاق وغیرہ ہے۔
سات اعضاء کی حقیقت
اگر بندہ اسلام کی حقیقت سمجھ لے اور جان لے کہ اسلام دل اور بدن دونوں کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے، تو وہ دل کا علاج بھی ضَرور کریگا۔ حقیقتاً شروع میں بندہ اپنے ان سات اعضاء (۱) زبان (۲) آنکھ (۳) کان (۴) ہاتھ (۵) پاؤں (۶) پیٹ اور(۷) شرم گاہ کے گناہوں سے چھٹکارا پاتا ہے۔ پھر ان اعضاء کو عبادت و اطاعت سے مزین کرتا ہے۔ کیونکہ یہی ساتوں اعضاء دل کے راستے ہیں، اگر ان پر گناہوں کے اندھیرے چھا جائیں تو دل کو سخت، اور بے نور کردیتے ہیں اور اگر یہ طاعت و عبادات کے انوار سے منور ہوجائیں، تو دل کو شفاء و نورانیت نصیب ہوتی ہے۔ (حقائق عن التَصَوُّف،ص ۲۶)

اسی دل کی نورانیت سے، راہِ طریقت پر چلنے والے کو مجاہدات و عبادات کے وقت مدد حاصل رہتی ہے۔

خاص ہدایات مگر چونکہ مجاہدہ کا طریقہ کار بڑا وسیع و مشکل ہے۔ اسلئے اس راہ پر چلنے والے کیلئے، اکیلے یہ راستہ طے کرنا کٹھن ہے۔ 

لہٰذا کسی مرشِدکامل کے دامن سے وابستہ ہونا ضَروری ہے۔یعنی کسی ایسے بُزُرگ کے ہاتھ میں ہاتھ دیدیا جائے، جو پرہیز گار اور متبع سنّت ہو، جنکی زیارت
Flag Counter