Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
166 - 269
قلب کی سلامتی
یَوْمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾
(ترجمہ کنزالایمان ) جس دن نہ مال کام آئے گا، نہ بیٹے، مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا، سلامت دل لے کر۔(سورۃ الشعراء آیت ۸۹۔۸۸)                                        ایک اور جگہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ
(ترجمہ کنزالایمان ) تم فرماؤ ! میرے ربّ نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں۔جو، اُن میں کھلی ہیں اور جو ،چھپی۔(سورۃالاعراف آیت۳۳)
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ
(ترجمہ کنزالایمان)اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ۔جو، ان میں کھلی ہیں اور جو! چھپی۔ۚ(سورۃ الانعام آیت۱۵۱)
جب انسان کی اصلاح کادل کی اصلاح کے ساتھ ارتباط (یعنی رابطہ)ہے تو انسان کے لئے ضَروری ٹھہرا کہ وہ (جسْم کے ساتھ) اپنے دل کی اصلاح بھی کرے۔ یعنی تمام بری عادتوں سے جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منع فرمایا ۔ ان سے دل کو صاف کرے۔ اور تمام اچھے اوصاف ، جن کا اللہ عَزَّوَجَل نے حکْم دیا، دل کو مزین کرے۔ تب جاکر اس کا دل سلامتی والا ہوگا۔ اور اسطرح وہ کامیاب و کامران ہوسکے گا۔

جیسا کہ قرآنِ پاک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا۔
Flag Counter