| آدابِ مرشدِ کامل |
وقت کا فائدہ ابن عجیبیہ علیہ الرحمۃفرماتے ہیں ہر انسان پر واجب ہے کہ تمام رکاوٹوں اور مصروفیات کو ختم کرکے خواہشاتِ نفسانی کی مخالِفت کرتے ہوئے ( اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف رجوع کرنے میں) جلدی کرے، اور کسی دوسرے وقت کا منتطر نہ رہے کہ اَہلِ طریقت وقت سے فائدہ اٹھانے والے ہوتے ہیں۔
(حقائق عن التصوف ، الباب الثانی الذکر ورد الصوفیۃ ودلیلہ من الکتاب والسنۃ ، ص ۲۳۳)
غفلت کے ساتھ ذکر ابن عطاء اللہ سکندری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ حضورِ قلب حاصل نہ ہونے پر ذکر (اَورادو وظائف )ترْک نہیں کرنا چاہیے ، (اَورادو وظائف) اور ذکر کو بالکل چھوڑدینا غفلت کے ساتھ ذکر کرنے سے بڑی غفلت ہے۔ عین ممکن ہے کبھی بھی آپ غفلت کے ساتھ ذکر کرتے کرتے ، دل کی حُضوری کے ساتھ ذکر کرنے کے مرتبے میں پہنچ جائیں ۔ اہل طریقت نے تو مراتب حاصل کرنے کے باوُجود اپنے اَوراد نہیں چھوڑے۔
(حقائق عن التصوف ، الباب الثاب الذکر ، باب آداب الذکر المنفر د ، ص ۱۲۵)
سرکا تاج ا بو الحسن دراج علیہ الرحمۃ نے فرمایا حضرت جُنید بَغْدادی علیہ الرحمۃ کے مطابق اہل معرفت کرامات انوار اور (دیگر برکتوں کے)حصول کے باوجود اپنے اَورادو(وظائف) اور عبادات ترْک نہیں کرتے۔ عبادت عارِفین کیلئے بادشاہ کے سر پر تاج سے زیادہ مَحبوب ہے۔ کسی نے آپ (یعنی جُنید بغداد ی علیہ الرحمۃ )کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر پوچھاکہ اس قدر کمال ( حاصل ہونے) کے بعد اب اس کی (یعنی اَورادو وظائف پڑھنے اور ذکر کرنے) کی کیا ضَرورت ہے؟