Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
154 - 269
ورنہ گولی ماردیں گے''۔ اب بس میں سناٹا چھا چکا تھا۔ صرف ڈاکوؤں کی دھمکیاں گونج رہی تھیں یا اچانک کبھی کسی خاتون کی سسکی سنائی دیتی۔

     میں سر پر سبزعمامہ شریف کا تاج سجائے ہاتھ میں تسبیح لئے دُرُودِ پاک پڑھتے ہوئے دل ہی دل میں اپنے پیرومرشِد کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کررہا تھا۔ چونکہ میرے پاس بھی ایک بڑی رقم تھی۔ اسلئے فکْر مند تھا مگریہ سوچ کر مطمئن تھا کہ میں نے شَجَرَہ عطّاریہ میں سے وِرْد کا معمول بنا رکھا تھا۔ جس کی بَرَکت سے، جان و مال، ایمان و اولاد سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حفاظت میں آجاتے ہیں۔ بس میں چند نوجوان بھی سوار تھے اور تشویش یہ تھی کہ کہیں ان میں کوئی جذبات میں آکر لُوٹنے والوں کو روکنے کی کوشش کرے تو ممکن ہے ڈاکو فائر کردیں اور اس طرح چلنے والی گولی کسی کو بھی لگ سکتی ہے۔ خیرمیں دُرُودِ پاک پڑھنے اور مرشِد کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرنے میں مصروف تھا۔ اس اثناء میں میرے برابر سیٹ پر جو نوجوان بیٹھاتھا۔ اس کے پاس فرداً فرداً تین ڈاکوؤں نے آکر تلاشی لی اور اس کی جیب خالی کروالی۔

     مگر حیرت انگیز طور پر ان ڈاکوؤں نے نہ ہی میری تلاشی لی اور نہ ہی کچھ کہا بلکہ جب چوتھاڈاکو آیاتو برابر والے کی تلاشی لینے کے بعد مجھ سے مخاطب ہوکر بڑی ہی نرمی سے کہنے لگا۔ آپ کو تو کسی نے چیک نہیں کیا ؟ میرے انکار میں سر ہلانے پر وہ چلاگیا۔