کوئی جاندار شے تھی جو ہاتھ میں مچلنے لگی۔ میں نے گھبرا کر اسے چھوڑ دیا دوبارہ جیسے ہی اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئیاور مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا۔ سامنے ایک خوفناک سانپ کنڈلی مارے منہ کھولے حملے کیلئے تیار تھا۔میں جسے ہڈی سمجھاتھا وہ درحقیقت سانپ تھا۔جو منہ میں چھپکلی پکڑے کنڈلی مار کر نگلنے میں مصروف تھا۔ میرے اٹھانے پر سانپ کا شکار منہ سے نکل گیا۔ اور وہ بپھر کر خوفناک انداز میں میرے سامنے حملے کیلئے تیار تھامگر ایسا لگتا تھا کہ کسی غیبی طاقت نے اسے روک رکھا تھا، شرکا ء قافِلہ میں سے ایک اسلامی بھائی نے دور سے اینٹ ماری تووہ کچلا گیا اور زخمی ہو کر تڑپنے لگا۔ مزید ضرب پڑنے پر آخرکار وہ موذی ہلاک ہوگیا۔ اور میں اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ شَجَرَہ عطّاریہ کی مذکورہ دعا صبح و شام پڑھنے کی بَرَکت سے سانپ ہاتھ میں پکڑنے کے باوُجوداس کے ڈسنے سے مَحفوظ رہا