Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
143 - 269
اسی طرح بہت سے اعمال، ایسے ہوتے ہیں جو عند الشرع افضَل ہوتے ہیں لیکن جب ان میں نفْس کا کوئی عَمَل دخل ہو تو وہ عَمَل مَفْضول ( یعنی کم درجہ والے) ہوجاتے ہیں اور مرید کو ان چیزوں کا پتا بھی نہیں  چلتا۔

لہذا مرید کو چاہے کہ وہ ہر وقت حکْم کی تعمیل ہی کر تا رہے اور اپنے آپ کو وسوسوں کے آنے ، اور شبہات کے پیدا ہونے سے بچائے      (انوارالقدسیہ)

اجازت کی بَرَکت کسی بھی وِرد یا وظیفے کی کامل بَرَکتیں حاصل کر نے اور اس میں حقیقی کامیابی کے لئے اَوراد و وظائف کی مرشِدِ کامل سے اجازت بہت فائدہ دیتی ہے۔ اور ان کی اجازت کے تَحَت پڑھے جانے والے" اَوراد و "وظائف کے ذریعے ظاہر ہونے والے فُیوض و بَرَ کات کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔

مَدَنی حکْمت وظائف کی اجازت میں ایک حکْمت یہ بھی ہے۔ کہ مرشِد پاک اپنے عطا کردہ ''اَوراد ووظائف'' سے متعلق، تمام ظاہر وباطنی امور کی تعلیم دینے کے علاوہ مکمل توجہ بھی فرمائیں۔ یہ باطنی توجہ ''اَور اد و وظائف ''میں کیمیا کا اثر رکھتی ہے۔

رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ بعض اوقات لوگ کسی ولیِ کامل سے عرْض کرتے 

ہیں کہ فلاں مشکل درپیش ہے تو ولیِ کامل الہام الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے بتاتے ہیں کہ فلاں وظیفہ پڑھو یا فلاں کام کرو(مثلًا مَدَنی انعامات کا فارم ہر ماہ پر کرکے جمع کرائیں یا مَدَنی قافلے کے ذریعے راِ ہ خدا عَزَّوَجَل میں سفر کریں) ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ کام ہوجائے گا۔ تو اس وظیفے ( یا بتائے ہوئے کام سے ظاہر ہونے والی) بَرَکت ا للہ عَزَّوَجَل کی عطا سے ان ولیِ کامل کی ہی ہوتی ہے۔

لہٰذا اپنے پیر ومرشِد کے پسندیدہ اُمور کے تَحَت اپنا معمول رکھنے میں ہی دنیا اور آخِرت کی بہتری ہے۔