Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
142 - 269
مزید یہ کہ ! شَجَرہ شریف میں دئیے ہوئے ضَروری "اَور ادو "وظائف اور مخصوص ہدایات پڑھنے سے مرید کو اپنا وہ عہد بھی یاد رہے گا، جو اس نے مرشِدِ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کیا تھا، نیز "اَور ادو " وظائف پڑھنے سے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دین و دنیا کی بے شمار بَرَکتیں بھی حاصل ہونگی۔ اجازتِ مرشِد ''اَور اد و وظائف'' پڑھنے کیلئے ضَروری ہے، کہ مرید صرف اپنے مرشِدِ کامل کے دیئے ہوئے اور ادو وظائف میں ہی مشغول رہے۔ دیگر کتابوں میں سے لئے ہوئے یا کسی اور کی طرف سے ملنے والے وظائف کو ترْک کردے، اور کوشش کرے کہ بِغیر اجازتِ مرشِد کسی وِرْد یاوظیفے میں مشغول نہ ہو۔ کیونکہ بِغیر اجازتِ مرشِد کسی وِرْد یا وظیفے میں مشغولیت، مشائخ کرام رحمھم اللہ کے نزدیک طریقت میں ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

ضَروری احتیاط الشَیخ ابوالمواہب سَیِّد نا امام عبدالوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبّانی اپنی مشہور زمانہ تصنیف الانوار ُ القدسیہ فی معرفتہ قواعد الصوفیہ میں ارشاد فرماتے ہیں! کہ مرید کو لائق نہیں ، کہ وہ اپنے مرشِد کی اجازت کے بِغیر کسی وظیفے میں مشغول ہو۔ بلکہ مرشِد کو جائز ہے، کہ وہ اپنے مریدکو ایک وظیفے کے ترْک کرنے اور ایک دوسرے وظیفہ کے اختیار کرنے کا حکْم فرمائے۔ جب مرشِد مرید کو کسی وظیفہ کے ترْک کرنے کا حکْم فرمائے ، تو اس کو چاہے کہ فورًا ہی حکْم مرشِد کی تعمیل کرے۔ مرید کو اپنے دل میں کوئی اعتراض لانا بھی جائز نہیں ۔ مثلًا دل میں یوں کہے کہ و ہ وظیفہ تو اچھا تھا، مرشِد نے مجھے اس سے کیوں روکا۔(ان ہی وُجوہات کی بناء پرمرید ترقی نہیں کر پاتا)

ممانعَت کی حکْمت بسا اوقات مرشِد کسی وظیفہ میں مرید کا نقصان دیکھتا ہے ۔ مثلًا اس وظیفہ سے مرید کے اخلاص کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔