کرام رحمھم اللہ )کو ایصالِ ثواب، کہ ان کی بارگاہ سے مُوجِبِ نظرِ عنایت (یعنی نظر کرم ہونے کا سبب) ہے۔
جب مرید شَجَرہ عالیہ پابندی سے پڑھتا ہے۔ اور سلسلے کے بُزُرگوں کی ارواحِ مقدسہ کو ایصالِ ثواب بھی کرتا ہے۔ تو اس سے ان بُزُرگوں کی ارواحِ مقدسہ خوش ہوتی ہیں ۔ اور ایصال ثواب کرنے والے مرید پر خُصوصی نظرِ عنایت کی جاتی ہے۔ جس سے مرید کو دینی ودنیوی بیشمار بَرَکتیں حاصل ہوتی ہیں اور فائدہ ملتا ہے۔
چوتھامَدَنی پھول جب یہ ( یعنی شَجَرَہ عالیہ پڑھنے والا) اوقاتِ سلامت (یعنی راحت) میں ان کا ( یعنی اپنے سلسلے کے مشائخ کرام رحمھم اللہ کا)،نام لیوا رہے گا۔ تو وہ اوقاتِ مصیبت (یعنی کسی بھی پریشانی اور مشکل کے وقت) ، اسکے دستگیر ہونگے۔ (یعنی اسکی مدد فرمائیں گے)
سرکارِ مدینہ ،سرور، قلب وسینہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ! " آرام کی حالت میں خدا عَزَّوَجَلَّ کو پہچان وہ تجھے سختی میں پہچانے گا۔ " ( یعنی تیرے لئے آسانی فراہم کریگا) (الجامع الصغیر مع فیض القدیر ، حرف التا ء ، رقم ۳۳۱۷ ، ج۳ ص ۳۳۱)