حضرت عبدالقادر عیسٰی شاذلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں! کہ" ورد " مفرد ہے۔ جو مقررہ وظیفے کو کہتے ہیں ۔ اس کی جمع ''اَوراد '' ہے۔ مریدین کو بعدِ نمازِ فجر ( یا مختلف اوقات میں) جن اَورادوو ظائف کے پڑھنے کی مشائخ کرام تلقین کرتے ہیں ,وہ اہلِ طریقت کے نزدیک، اَوراد و وــظائف کہلاتے ہیں۔ لُغْت میں ''اَوراد ''کے معنی) آنے والا) ہے۔ مشائخ کرام کی اصطلاح میں قلب پرانوارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نزول کو'' وارِد'' کہتے ہیں۔ جس کے سبب قلوب متحرّک ہوتے ہیں۔
(حقائق عن التصوف ، الباب الثانی ،الذکر ، ورد الصوفیۃ ودلیلہ من الکتاب والسنۃ، ص ۲۳۳)
مشائخ کرام نے راہ طریقت اختیار کرنے والوں کو بڑی سختی سے ''اَوراد '' وظائف کی پابندی کی تلقین کی ہے اور انہیں سستی یا فراغت کے انتظار