Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
137 - 269
شَجَرہ شریف پڑھنے کے

فوائد اور بَرَکتیں
عاشقِ اعلیٰ حضرت ،امیرِ اَہلسنّت با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَا لِیَہ اپنے رسالےضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نقْل فرماتے ہیں،''بے شک تمہارے نام بمع شناخْتْ مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں لہٰذا مجھ پر اَ حْسَن (یعنی خوبصورت الفاظ میں)دُرُودِپاک پڑھو۔ (مصنف عبد الرزاق ج۲ص۲۱۴ رقم الحدیث ۳۱۱۱ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی)
صَلّو ا علیٰ الْحَبيب ! صَلَّی اللہ تَعالیٰ علیٰ مُحَمَّد
اَوراد و وظائف
حضرت عبدالقادر عیسٰی شاذلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں! کہ" ورد " مفرد ہے۔ جو مقررہ وظیفے کو کہتے ہیں ۔ اس کی جمع ''اَوراد '' ہے۔ مریدین کو بعدِ نمازِ فجر ( یا مختلف اوقات میں) جن اَورادوو ظائف کے پڑھنے کی مشائخ کرام تلقین کرتے ہیں ,وہ اہلِ طریقت کے نزدیک، اَوراد و وــظائف کہلاتے ہیں۔ لُغْت میں ''اَوراد ''کے معنی) آنے والا) ہے۔ مشائخ کرام کی اصطلاح میں قلب پرانوارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نزول کو'' وارِد'' کہتے ہیں۔ جس کے سبب قلوب متحرّک ہوتے ہیں۔
 (حقائق عن التصوف ، الباب الثانی ،الذکر ، ورد الصوفیۃ ودلیلہ من الکتاب والسنۃ، ص ۲۳۳)
مشائخ کرام نے راہ طریقت اختیار کرنے والوں کو بڑی سختی سے ''اَوراد '' وظائف کی پابندی کی تلقین کی ہے اور انہیں سستی یا فراغت کے انتظار
Flag Counter