Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
132 - 269
تصور مرشِد کا ایک اور مَدَنی طریقہ
چل مدینہ کے مقدس سفر کے دورا ن جب امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتہم العالیہ سے عرْض کی گئی !کہ حضور کیا تصور مرشِد کرنا چاہے، تو آپ نے فرمایا ! کہ طریقت کا معاملہ ہے میں کیسے منع کر سکتا ہوں۔مزید عرْض کی گئی کہ حضور تصور مرشِد کا طریقہ کیا ہے ! ارشاد فرمایا الوظیفۃُ الکریمہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرَحمۃ نے لکھا ہے، دیکھ لیں، جب اصرار بڑھا تو آپ نے ارشاد فرمایا

چاہیں تو اسطرح بھی تصور کرسکتے ہیں، کہ مرید، اپنے پیر و مرشِد کو سبز گنبد کے سامنے ، دست بستہ (یعنی ہاتھ باندھے) ، سر جھکا ئے گریہ وزاری فرماتے تصور کرے۔ اور یہ تصور باندھے کہ میں بھی اپنے پیر و مرشِد کے پیچھے، سر جھکائے اشکبار آنکھوں کے ساتھ بااَدَب موجود ہوں اور سبز گنبد سے میرے پیر و مرشِد پر انوار و تجلیات کی بارش ہورہی ہے۔ اور وہ تجلیات کی بارش، پیرومرشِد سے مجھ پر برس رہی ہے۔اسی طرح تصور جمانے کی کوشش کرے، حتٰی کہ اس میں کامل ہوجائے۔عرْض کی گئی ، حضور اگر مرید اس طرح تصورِ مرشِد کرے، تو کیا ہوگا۔

ارشاد فرمایا! ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ مرشِد ہر وقت اسکے ساتھ ہوگا۔ (مگر اس کے لیئے اپنے قلب کو آئینہ بنانا ہوگا، گناہوں کے زنگ کو اپنے دل سے دور کرنا ہوگا۔)۷
Flag Counter