Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
131 - 269
'' تصورِ مرشِد کا طریقہ''
اعلیٰحضرت عظیم ُالمرتبت الشاہ اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن یوں ارشاد فرماتے ہیں۔ 

خَلْوَت ( یعنی تنہائی) میں آوازوں سے دور، روبہ مکان شَیخ (یعنی مرشِد کے گھر کی طرف منہ کرکے) ، اور وِصال ہوگیا ہو تو، جس طرف مزارِ شَیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے۔مَحض خاموش، بااَدَب بکمال خُشوع و خُضوع ،صورتِ شَیخ کاتصور کرے اور اپنے آپ کو ان کے حُضور جانے، اور یہ خیال جمائے کہ سرکارِ مدینہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمسے انوار وفَیض ، شَیخ کے قلْب پر فائض ہورہے ہیں۔ اور میرا قلْب ، قلْبِ شَیخ کے نیچے ، بحالتِ دَرْیوزَہ گری ( یعنی گداگری ) میں لگا ہوا ہے۔ اور اس میں سے، انوار وفُیوض ، اُبَل اُبَل کر ، میرے دل میں آرہے ہیں۔

اس تصور کو بڑھائے، یہاں تک کہ جم جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے۔ اس کی انتہا پر، صورتِ شَیخ (یعنی پیرومرشِد کا چہرہ مبارک) خود متمثل ہوکر مرید کے ساتھ رہے گی۔ اور ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ(اللہ و رسو ل عَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمکی عطا سے) ہر کام میں مدد کرے گی۔ اوراس راہ میں جو مشکل اسے پیش آئے گی اس کا حل بتائیگی۔(الوظیفۃ الکریمۃ ، ص ۳۶)
Flag Counter